LIVE
Loading Breaking News...

حصص بازار کی صورتحال: سینسیکس اور نفٹی کی تجارت پر ایک نظر

News Image
جمعرات کے روز حصص بازار ایک غیر یقینی سیشن کے بعد ملا جلا رجحان کے ساتھ بند ہوا۔ نچلی سطح پر خریداری کے باعث نفٹی نے دن کی کم ترین سطح سے بحالی کی کوشش کی۔
جمعرات کے روز ملک کے اہم حصص بازار میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں کاروبار کے اختتام پر اہم بینچ مارک انڈیکسز زیادہ تر چپٹے یعنی بغیر کسی بڑے فرق کے بند ہوئے۔ ہفتہ وار ایکسپائری کے باعث تجارتی سرگرمیوں میں شدید غیر یقینی کیفیت برقرار رہی اور سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنائے رکھا۔ سیشن کے دوران مارکیٹ میں کئی بار اوپر اور نیچے کے رجحانات دیکھے گئے، جس نے تجارتی حلقوں میں تجسس پیدا کیے رکھا۔ کارروائی کے دوران نفٹی انڈیکس نے سیشن کی کم ترین سطح یعنی 24,311.40 کو چھوا، لیکن نچلی سطح پر آنے والی تازہ خریداری اور سرمایہ کاری نے اسے سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سہارے کی بدولت نفٹی نے اپنی ابتدائی گراوٹ کے اثرات کو کچھ حد تک زائل کیا اور بالآخر 24,400 کی اہم نفسیاتی سطح کے قریب ہی بند ہونے میں کامیاب رہا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں گہری گراوٹ کو روکنے کے لیے اس مخصوص سطح پر خریداروں کی دلچسپی سب سے بڑا محرک ثابت ہوئی۔ مجموعی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو بڑے انڈیکسز کے برعکس وسیع تر مارکیٹ (ব্রডার مارکیٹ) نے نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کے حصص میں سرمایہ کاروں کی خریداری کا رجحان زیادہ دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریٹیل اور انسٹی ٹیوشنل انڈویلجولز چھوٹے اسٹॉक्स میں موقع تلاش کر رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ آنے والے سیشنز میں بھی مارکیٹ کا یہ ملا جلا رجحان جاری رہ سکتا ہے کیونکہ عالمی اور ملکی معاشی اشاریے اس وقت کسی ایک سمت میں مستقل تیزی یا مندی کا اشارہ نہیں دے رہے۔ اس طرح کے اتار چڑھاؤ بھرے سیشنز میں سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کریں۔ ہفتہ وار ایکسپائری کے دنوں میں مارکیٹ کے اندر قلیل مدتی اتار چڑھاؤ عام بات ہے، تاہم بنیادی طور پر مضبوط اور مستحکم کمپنیوں کے حصص میں طویل مدتی سرمایہ کاری اب بھی محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں کارپوریٹ نتائج اور عالمی مارکیٹس کے اشارے حصص بازار کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔