LIVE
Loading Breaking News...

گھانا پام آئل انڈسٹری میں اصلاحات اور مسائل کا حل

News Image
وزیر خوراک و زراعت ایرک اوپوکو نے گھانا کے پام آئل سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ شکوہ کرنے کے بجائے مسائل کے عملی حل تلاش کریں۔ انہوں نے انڈسٹری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی نسل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گھانا کے وزیر خوراک و زراعت، ایرک اوپوکو نے ملک کی پام آئل انڈسٹری کے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی طور پر صرف شکوے کرنے کا کلچر ترک کر دیں اور خود کو مسائل کے حل تلاش کرنے والے یعنی ٹربل شوٹرز میں تبدیل کریں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب زرعی شعبے میں پیداوار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئی اصلاحات پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ صرف مشکلات کا رونا رونے سے سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے عملی اور پائیدار لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ حکام کے مطابق، گھانا کی پام آئل انڈسٹری میں ترقی کیپیسٹی کی کمی اور انتظامی رکاوٹوں سمیت کئی دیرینہ مسائل پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیر زراعت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے نجی شعبے اور صنعت سے وابستہ افراد کا تعاون بھی اتنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک متعلقہ فریق خود آگے بڑھ کر مسائل کی جڑ تک نہیں پہنچیں گے اور مقامی سطح پر ان کا حل نہیں ڈھونڈیں گے، اس وقت تک مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن رہے گا۔ اس موقع پر زرعی ماہرین نے بھی وزیر کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھانا میں پام آئل کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید زرعی آلات، بہتر کھاد اور معیاری بیجوں تک کسانوں کی آسان رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ حکومت اور نجی شراکت داری کے تحت شروع کیے جانے والے نئے اقدامات سے توقع کی جا رہی ہے کہ انڈسٹری کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی اور یہ شعبہ ملکی معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکے گا۔