Technology
مصنوعی ذہانت اور مستقبل کا کاروبار: ایس اے پی کا اہم انکشاف
ایس اے پی کے چیف کوانٹم آفیسر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جلد ہی انٹیلی جنس کو ایک عام اور سستی شے میں تبدیل کر دے گی۔ بہتر فیصلے کرنا ہی مستقبل کی دنیا میں کمپنیوں کے لیے اصل مسابقتی برتری بنے گا۔
مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے ایک ایسی بنیاد بنتی جا رہی ہے جس کے بغیر کسی بڑے ادارے کا تصور بھی ناممکن ہے۔ ایس اے پی (SAP) کے چیف کوانٹم آفیسر کے مطابق، آنے والے چند سالوں میں ہر بڑی کمپنی کے پاس کم و بیش ایک جیسی پیشگوئی کرنے کی صلاحیتیں اور جدید ٹیکنالوجی موجود ہوگی۔ جب مصنوعی ذہانت کی یہ پیشگوئیاں اور عام صلاحیتیں ہر ایک کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہو جائیں گی، تو ٹیکنالوجی خود بخود ایک عام اور عامیانہ شے یا کموڈٹی بن جائے گی۔اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں جہاں ہر حریف کے پاس ایک جیسے جدید سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی کی طاقت ہوگی، کمپنیاں ایک دوسرے سے کیسے آگے نکلیں گی؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا جواب صرف بہتر فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔ جب ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سب کے پاس برابر ہوں گے، تو اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سا ادارہ ان وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ مؤثر، بروقت اور درست کاروباری فیصلے کرتا ہے۔ بہتر فیصلے ہی مستقبل کے کارپوریٹ ماحول میں سب سے بڑی مسابقتی برتری ثابت ہوں گے۔ایس اے پی کے اعلیٰ عہدیدار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کو اب روایتی سوچ سے باہر نکل کر اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا درست استعمال اور اس پر فوری عمل درآمد ہی کسی بھی کاروبار کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا۔ جو کمپنیاں اس تبدیلی کو اپناتے ہوئے اپنے فیصلہ سازی کے نظام کو مزید بہتر بنا لیں گی، وہی آنے والے دور میں مارکیٹ پر راج کریں گی۔