LIVE
Loading Breaking News...

روس کا یمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ، امریکہ پر تنقید

News Image
روسی حکومت نے یمن کی مکمل ناکہ بندی کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور علاقائی کشیدگی کا تمام تر ملبہ امریکہ اور اسرائیل پر ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ یمن کو 2022 کے تاریخی معاہدے کے بعد ایک بار پھر جنگ کی طرف واپسی کا سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔
ماسکو: روس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن پر عائد ناکہ بندی کو فوری اور مکمل طور پر ختم کیا جائے تاکہ جنگ سے متاثرہ اس ملک کے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ وہ سخت پابندیاں ہیں جن کا سامنا یمنی عوام کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ماسکو نے موجودہ علاقائی کشیدگی کا ذمہ دار براہ راست امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے بھی یمن کی نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2022 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یمن کو ایک بار پھر مکمل جنگ کی لپیٹ میں آنے کا سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یمن کے انسانی حقوق اور بنیادی ڈھانچے کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ادھر یمن کے سرکاری اداروں کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی حمایت کو ایک اہم لائف لائن قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے ایلچی نے بھی سلامتی کونسل میں اپنے بیان میں اس بات کی تائید کی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور مختلف ممالک کی جانب سے امن کی بحالی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور امن پر پڑ سکتے ہیں۔