Business
چینی یوان میں مسلسل ساتواں ہفتہ وار اضافہ، امریکی شرح سود کا اثر
مضبوط مرکزی بینک فکسنگ اور امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے کی وجہ سے چینی یوان مسلسل ساتویں ہفتے بھی اضافے کی طرف گامزن ہے۔ اس مالیاتی پیش رفت سے بین الاقوامی منڈیوں میں چینی معیشت کی پوزیشن مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں چینی یوان کی قدر میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ کرنسی اپنے مسلسل ساتویں ہفتہ وار اضافے کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اس مثبت رجحان کے پیچھے دو اہم ترین عوامل کارفرما ہیں، جن میں چین کے مرکزی بینک کی جانب سے کی جانے والی مضبوط فکسنگ اور عالمی سطح پر امریکی شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کا مدھم پڑ جانا شامل ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان حالات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے اور ایشیایی کرنسیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ میں افراط زر کے اعداد و شمار اور وفاقی ریزرو کے آئندہ اقدامات کے بارے میں سرمایہ کاروں کی رائے تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکی معیشت کے سست پڑنے کے اشاروں نے اس بات کی امیدیں بڑھا دی ہیں کہ امریکی مرکزی بینک اب شرح سود میں مزید اضافہ روک سکتا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست فائدہ چینی یوان کو ملا ہے، جو کہ گزشتہ چند ہفتوں سے دباؤ کا شکار تھا مگر اب نمایاں بہتری کی طرف لوٹ آیا ہے۔
چینی حکام اور مالیاتی اداروں کی جانب سے کرنسی کے استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بھی اس تیزی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مرکزی بینک نے روزانہ کی بنیاد پر یوان کے لیے مضبوط ریفرنس ریٹس مقرر کیے ہیں، جس سے سٹعہ بازوں کو مارکیٹ میں من مانی کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی معاشی اشاریے اسی طرح سازگار رہے تو چینی یوان آنے والے دنوں میں اپنی اس برتری کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔