Entertainment
اسپائیڈر مین برینڈ نیو ڈے بائیکاٹ مہم اور اسرائیل تنازعہ
فلسطین نواز کارکنوں نے فلم اسپائیڈر مین برینڈ نیو ڈے کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے کیونکہ اس کے پروڈیوسر کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کے ساتھ تعاون کرنا جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، قابل قبول نہیں ہے۔
بین الاقوامی سطح پر فلمی صنعت میں ایک نیا تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب فلسطین نواز کارکنوں نے آنے والی بڑی ہالی ووڈ فلم 'اسپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے' کے مکمل بائیکاٹ کی اپیل کر دی۔ کارکنوں اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلم کے ایک اہم پروڈیوسر کے اسرائیل کے ساتھ گہرے روابط اور مالی وابستگی ہے، جس کی وجہ سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اسرائیل مخالف جذبے عروج پر ہیں اور ثقافتی بائیکاٹ کی تحریکوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ بائیکاٹ کی اس مہم کا بنیادی مقصد فلمی دنیا کی بڑی شخصیات اور پروڈیوسروں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ تنازعات میں کسی ایک فریق کی حمایت سے گریز کریں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہے جہاں ہزاروں صارفین پروڈیوسر کے ساتھ ساتھ سٹوڈیو کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات فلمی باکس آفس پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں کیونکہ شائقین کی ایک بڑی تعداد اب اخلاقی بنیادوں پر فلموں کا انتخاب کر رہی ہے۔ سٹوڈیو یا پروڈیوسر کی طرف سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن انڈسٹری کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ احتجاج مزید پھیلا تو فلم کی مارکیٹنگ اور پرافٹ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔