World
اسرائیلی فورسز کی قصرا میں فلسطینی خاندانوں تک رسائی پر پابندی
قابض اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں محصور فلسطینی خاندانوں تک کارکنان کو پہنچنے سے روک دیا ہے۔ اس محاصرے کی وجہ سے بچوں سمیت متعدد فلسطینی کئی روز سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گھروں کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قصرا میں انسانی حقوق اور امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں قابض اسرائیلی فورسز نے مقامی کارکنان کو محصور فلسطینی خاندانوں تک پہنچنے سے سختی سے روک دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پچھلے تقریبا ایک ہفتے سے پندرہ کے قریب فلسطینی، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں، اس علاقے کے مختلف گھروں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ان خاندانوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور باہر سے کوئی بھی شخص یا امدادی ٹیم ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہے۔
مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ محاصرہ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے قصرا کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت پہرے بٹھا رکھے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف امدادی کارکنان بلکہ طبی عملہ بھی وہاں مقیم محصور شہریوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔ بچوں اور خواتین کی موجودگی کی وجہ سے اس انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ طویل عرصے سے گھروں میں بند رہنے کے باعث خوراک اور ادویات کا ذخیرہ بھی ختم ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم قابض انتظامیہ کی جانب سے لگائی جانے والی قدغنیں امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر یہ پابندیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں، لیکن حالیہ محاصرے نے شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی حلقوں نے عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور خاندانوں بالخصوص بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔