LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف سخت مؤقف، قصرا کا محاصرہ

News Image
امریکہ کے سفیر نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں فلسطینی خاندانوں پر پرتشدد محاصرے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکہ کے سفیر نے اسرائیل میں ایک نایاب اور اہم ترین بیان جاری کرتے ہوئے مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں مقیم فلسطینی خاندانوں کے خلاف جاری پرتشدد محاصرے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی برادری اس پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ سفیر کی جانب سے اس واقعے کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنانا اور آباد کاروں کے پرتشدد رویے پر سوال اٹھانا واشنگٹن کی روایتی پالیسی میں ایک قابل ذکر تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قصرا کے مقام پر پیش آنے والے ان دردناک واقعات نے مقامی آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے جہاں روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کس طرح مسلح آباد کاروں نے دیہاتیوں کو ہراساں کیا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ سفیر کے اس بیان کے بعد اب یہ سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے کہ کیا امریکہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یا سفارتی دباؤ بڑھا کر اس ظالمانہ محاصرے کو ختم کرانے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ بیان علامتی اہمیت کا حامل ہے، لیکن زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے لیے واشنگٹن کی طرف سے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ اسرائیلی حکومت پر بھی بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انتہا پسند آباد کاروں کی کارروائیوں کو لگام دے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، علاقائی مبصرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا آئندہ دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادی اس بحران کے حل کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں یا نہیں۔ قصرا کے باسی اس وقت شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انہیں فوری طور پر بین الاقوامی تحفظ اور امداد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس گھٹن کے ماحول سے باہر نکل سکیں۔