LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس - ایدھی رضاکاروں کے انکشافات

News Image
میر رضا علی کیس میں ایدھی کے رضاکاروں نے لاش کی دریافت کے وقت کے حالات اور مناظر پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اس معاملے میں مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
کراچی: میر رضا علی کیس میں روز بروز نئے اور سنسنی خیز حقائق سامنے آرہے ہیں، جن میں ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کا بیان بھی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایدھی کے ان رضاکاروں نے جنھوں نے سب سے پہلے لاش کو موقع پر دیکھا تھا، اس واقعے سے جڑے ابتدائی حالات کے بارے میں میڈیا اور تفتیشی اداروں کو اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔ رضاکاروں کے مطابق جب انہیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر مقررہ مقام پر پہنچے جہاں انہوں نے صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا۔ ابتدائی طور پر لاش کی حالت اور اردگرد کے ماحول کے حوالے سے رضاکاروں نے بتایا کہ وہاں موجود شواہد انتہائی تشویشناک تھے۔ ایدھی کے عملے نے پیشہ ورانہ انداز میں تمام کارروائی کو آگے بڑھایا اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ رضاکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت وہاں موجود ماحول کافی سنسان اور خوفزدہ کرنے والا تھا، تاہم انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس میں ایدھی رضاکاروں کے بیانات کو بطور اہم گواہی شامل تفتیش کر رہے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ رضاکاروں کی جانب سے فراہم کردہ یہ ابتدائی معلومات کیس کو سلجھانے اور اصل مجرموں تک پہنچنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گی۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ لاش ملنے کے وقت اور مقام سے کون کون سے فنگر پرنٹس اور دیگر تکنیکی شواہد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کیس نے ملک بھر میں ایک سنسنی پھیلا دی ہے اور عامتہ الناس کی نظریں اس کی تفتیش پر لگی ہوئی ہیں۔ لواحقین اور شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ تمام زاویوں سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں اور جلد ہی اس کیس کے حوالے سے مزید اہم کامیابیاں حاصل کر لی جائیں گی۔