LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فضائیہ کی بنجر زمین پر سولر پینلز کا بڑا منصوبہ

News Image
امریکہ میں فضائیہ کی استعمال نہ ہونے والی بنجر زمین کو بڑے پیمانے پر سولر پینلز نصب کر کے قابل تجدید توانائی کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر لگ بھگ انیس لاکھ سولر پینلز لگا دیے گئے ہیں۔
سنہ 2018 میں امریکی فضائیہ نے کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس کی غیر استعمال شدہ اور بنجر زمین کے لیے پینتیس سالہ لیز پر دستخط کیے تھے۔ یہ تاریخی مقام پہلے طیاروں کی آزمائش اور تجربات کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہاں کی صورتحال میں ایک خوش آئند اور غیر متوقع تبدیلی رونما ہوئی۔ حکام نے اس وسیع و عریض ریگستانی زمین کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ملک کے سب سے بڑے صاف ستھری توانائی کے منصوبوں میں سے ایک کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں آج یہ سابقہ ہوائی جہازوں کا ٹیسٹنگ گراؤنڈ تقریباً 19 لاکھ سولر پینلز کا مسکن بن چکا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں سولر پینلز کی تنصیب نے اس علاقے کی پوری جغرافیائی و اقتصادی اہمیت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب یہ تنصیب نہ صرف فوج کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے بلکہ قومی گرڈ کو بھی قابلِ تجدید اور ماحول دوست بجلی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔ ریگستانی علاقوں میں سورج کی روشنی کی وافر مقدار کو دیکھتے ہوئے اس زمین کا یہ استعمال انتہائی سودمند ثابت ہوا ہے۔ منصوبے کی کامیابی نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی بنجر اور فالتو زمینوں کو ملکی سطح پر توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقے سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے امریکی فضائیہ کے تنصیبات کے حوالے سے روایتی سوچ کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ منصوبہ ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کرتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ پائیدار ترقی کے عالمی اہداف سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے مزید منصوبے دیگر فوجی اڈوں پر بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ ملک کو صاف اور سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔