World
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی اتحاد نیٹو کا حریف نہیں
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان قائم ہونے والا نیا دفاعی اتحاد کسی بھی طرح نیٹو کا متبادل یا حریف نہیں ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین حالیہ عرصے میں طے پانے والے دفاعی معاہدے اور اتحاد کے حوالے سے اہم وضاحت سامنے آئی ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے باضابطہ طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ نیا قائم ہونے والا اتحاد کسی بھی صورت میں شمالی بحری معاہدے کی تنظیم یعنی نیٹو (NATO) کا متبادل یا اس کا کوئی حریف نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے تینوں برادر اسلامی ممالک کا یہ باہمی تعاون خالصتاً دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد خطے کے اندر دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔
ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے یا اتحاد کے دائرہ کار میں کسی بھی ملک کو باضابطہ طور پر دشمن یا حریف (adversary) کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ اس نئے اسٹریٹجک فریم ورک کا بنیادی مقصد محض رکن ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا، تجربات کا تبادلہ کرنا اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔ عالمی سطح پر اس اتحاد کے قیام کے بعد مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید یہ مغربی عسکری اتحاد نیٹو کے مقابلے میں ایک نیا بلاک تشکیل دیا جا رہا ہے، تاہم اس تازہ ترین سرکاری بیان نے تمام ابہام کو دور کر دیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب تینوں ممالک امت مسلمہ اور اس خطے میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان تینوں کی دفاعی شراکت داری سے علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ، بارڈر سیکیورٹی اور عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اتحاد کو نیٹو کے مقابلے کے طور پر دیکھنا زمینی حقائق کے منافی ہے، کیونکہ یہ ممالک اپنے علاقائی دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے خودمختار فیصلے کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں اور اس طرح کے تعاون بین الاقوامی قانون اور روایات کے عین مطابق ہیں۔