LIVE
Loading Breaking News...

لاک ہیڈ مارٹن کی فائیو جی ڈرون ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی

News Image
امریکی ایرو اسپیس کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے فائیو جی نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈرون کی شناخت اور نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس منصوبے میں ورزن اور انویڈیا جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
امریکی دفاعی اور ایرو اسپیس کے شعبے کی جائنٹ کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے ٹیلی کام کے شعبے کی نامور کمپنی ورزن اور چپ بنانے والی معروف فرم انویڈیا سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک انتہائی جدید ٹیکنالوجی کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ اس مشترکہ اقدام کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کس طرح پہلے سے موجود فائیو جی (5G) نیٹ ورکس کو مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس سسٹمز کے ساتھ جوڑ کر فضائی حدود میں ڈرونز کی شناخت، ٹریکنگ اور نگرانی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جدید دور میں ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی سیکیورٹی کے نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس تکنیکی مظاہرے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کس طرح فائیو جی نیٹ ورکس کی تیز رفتار اور کم تاخیر (low latency) کی خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ انویڈیا کی طاقتور مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ کی صلاحیتیں اس نظام کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ ریئل ٹائم میں فضا میں موجود اشیاء کا تجزیہ کر سکے۔ اس اشتراک کا بنیادی مقصد عسکری اور سول دونوں شعبوں کے لیے فضائی حدود کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانا ہے تاکہ کسی بھی غیر مجاز ڈرون کی نقل و حرکت کا بر وقت پتہ لگایا جا سکے اور ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس پراجیکٹ کے ذریعے روایتی مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو دفاعی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے نئے راستے کھل گئے ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے وقتوں میں فائیو جی اور اے آئی کا امتزاج مختلف صنعتوں خصوصاً ایوی ایشن اور سیکیورٹی کے شعبے میں انقلاب برپا کر دے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی سے نہ صرف ملکی سلامتی کے اداروں کو مدد ملے گی بلکہ تجارتی سطح پر بھی ڈرون آپریٹرز اور فضائی ٹریفک کنٹرول کے لیے نگرانی کے نظام کو جدید تر بنایا جا سکے گا۔