LIVE
Loading Breaking News...

پاسکی سیکیورٹی ٹولز میں خامیاں، تشدد کے متاثرین کو خطرہ

News Image
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے متعارف کرائے جانے والے پاسکی ٹولز میں گھریلو اور نفسیاتی تشدد کے متاثرین کی حفاظت کے لیے کچھ اہم خامیاں موجود ہیں۔ یہ خامیاں متاثرہ افراد کو ڈیجیٹل ہراسانی سے مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈز کے متبادل کے طور پر متعارف کروائے جانے والے پاسکیز (Passkeys) کو سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک بڑا انقلاب سمجھا جا رہا ہے، تاہم حال ہی میں سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق نے اس کے استعمال کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، یہ جدید سیکیورٹی ٹولز گھریلو اور نفسیاتی تشدد کے شکار افراد کو ڈیجیٹل ہراسانی سے بچانے میں مکمل طور پر موثر ثابت نہیں ہو رہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ڈیزائن میں ایسے افراد کی مخصوص ضروریات کو نظر انداز کیا گیا ہے جو سنگین نوعیت کے تشدد یا ہراسانی کا شکار رہ چکے ہیں۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب صارفین مشترکہ آلات استعمال کرتے ہیں یا جب کسی بدخواہ ساتھی کی جانب سے ڈیجیٹل اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو پاسکیز کا موجودہ نظام متاثرہ افراد کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ کئی معاملات میں، بائیو میٹرک ڈیٹا یا ڈیوائس لاکس کو اس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے جو متاثرین کے لیے مزید پیچیدگیوں اور خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے سیکورٹی اور سہولت پر تو توجہ دے رہے ہیں، لیکن انتہائی پسماندہ یا کمزور طبقات کی سیکیورٹی کے گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں۔ ماہرین اور ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنان نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاسکی سیکیورٹی ٹولز کے ڈیزائن میں فوری طور پر اصلاحات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر ڈیولپرز کو ایسے فیچرز متعارف کرانے ہوں گے جو خاص طور پر ان افراد کی حفاظت کو یقینی بنائیں جو گھریلو تشدد یا ڈیجیٹل اسٹاکنگ کا شکار ہیں۔ اس ضمن میں، اکاؤنٹس کی بحالی کے عمل، ڈیوائس شیئرنگ کی صورت میں سیکیورٹی اور ہنگامی حالات میں رسائی کے پروٹوکولز کو از سر نو ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی شخص اپنی ڈیجیٹل شناخت اور ذاتی سلامتی سے محروم نہ ہو سکے۔