Pakistan
پاکستان کا بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر سخت انتباہ
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کیا ہے۔ پاکستان اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور پانی کے حقوق کا دفاع کرے گا۔
نیکسٹورا نیوز اردو کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی مبینہ اور غیر قانونی معطلی پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پانی جیسے اہم اور زندگی سے جڑے ہوئے معاملے پر کسی قسم کی جارحیت یا معاہدے کی خلاف ورزی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک بنیادی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک ہے، جسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارت کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی قدم اٹھائے گا۔ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے حل کا بنیادی ذریعہ رہا ہے، لیکن حالیہ بھارتی اقدامات نے اس دیرینہ معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام نہ صرف دو طرفہ معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو معاہدے کی پاسداری کرنے پر مجبور کریں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ریڈ لائن کی یہ وارننگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پانی کی کمی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر پاکستان کی زرعی معیشت کا انحصار ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ ملکی غذائی سلامتی کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ حکومت پاکستان کی یہ پالیسی واضح کرتی ہے کہ آبی وسائل کے معاملے پر قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس ایشو کو تمام عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔