Sports
ورلڈ ایتھلیٹکس اور روس کا قانونی تنازع، عدالت میں دفاع کا اعلان
ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سبسٹین کو نے واضح کیا ہے کہ کھیلوں کی عالمی عدالت میں روس کی جانب سے پابندیوں کے خلاف دائر کردہ نئی اپیل کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔ روسی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے عائد کردہ پابندیوں کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سبسٹین کو نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم روس کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی قانونی کوششوں کا عدالت میں بھرپور اور سختی سے دفاع کرے گی۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی ایتھلیٹکس نے کھیلوں کی ثالثی عدالت یعنی کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹس (CAS) میں ایک نئی درخواست دائر کی ہے۔ اس نئی درخواست کا مقصد عالمی باڈی کی طرف سے عائد کردہ ان سخت پابندیوں کو چیلنج کرنا ہے جو طویل عرصے سے روسی کھلاڑیوں پر عائد چلی آ رہی ہیں۔ سبسٹین کو کا کہنا ہے کہ ورلڈ ایتھلیٹکس کا موقف بالکل واضح ہے اور وہ کھیلوں کے منصفانہ ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے فیصلوں پر قائم رہے گی۔ دوسری جانب، روسی ایتھلیٹکس حکام کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں غیر منصفانہ ہیں اور ان سے کھلاڑیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ عدالت سے یہ استدعا کر رہے ہیں کہ پابندیوں کو کالعدم قرار دیا جائے تاکہ روسی ایتھلیٹس بین الاقوامی مقابلوں میں بلا روک ٹوک حصہ لے سکیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ کیس کھیلوں کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس کے فیصلے سے بین الاقوامی فیڈریشنز اور معطل شدہ رکن ممالک کے مابین تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ورلڈ ایتھلیٹکس کی قانونی ٹیم اس کیس کی مکمل تیاری کر رہی ہے تاکہ عدالت میں اپنے موقف کو مضبوطی سے پیش کیا جا سکے اور کھیلوں کے عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔