Technology
چینی اے آئی ماڈل زی اے آئی جی ایل ایم 5.3 سائبر ڈیفنس ٹیسٹ
چینی مصنوعی ذہانت کے ادارے زی اے آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیا اوپن سورس ماڈل جی ایل ایم 5.3 سافٹ ویئر کی کمزوریوں کی شناخت میں اینتھروپک کے میتھوس 5 کے قریب تر ہو گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کو عوامی سطح پر جاری کرنے سے پہلے حفاظتی جانچ پڑتال اور اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
چین کے مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے ادارے زی اے آئی (Z.ai) نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس کا نیا اوپن سورس ماڈل 'جی ایل ایم 5.3' (GLM-5.3) سافٹ ویئر کی خامیوں اور کمزوریوں کی شناخت کے معاملے میں امریکی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے انتہائی محفوظ اور محدود رسائی والے ماڈل 'میتھوس 5' (Mythos 5) کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اس پیش رفت نے مغربی ممالک کے ڈویلپرز کے درمیان چینی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور ساکھ کو مزید تقویت دی ہے۔ کمپنی کے مطابق، جی ایل ایم 5.3 نے سائبر جم ٹیسٹ میں 84.5 فیصد اسکور حاصل کیا جو کہ کوڈ کا جائزہ لینے، سیکیورٹی کی خامیوں کو پہچاننے اور ان کی تصدیق کرنے کی صلاحیت کاپیمانہ ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ نتیجہ میتھوس 5 کے رپورٹ کردہ 83.8 فیصد اسکور سے قدرے بہتر ہے۔ تاہم، یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ اس کے علاوہ، دریافت شدہ خامیوں کو فعال حملوں میں تبدیل کرنے کے معاملے میں جی ایل ایم 5.3 اب بھی میتھوس 5 کے مقابلے میں پیچھے ہے۔ زی اے آئی نے بتایا کہ اس کے ماڈل نے ایکسپلائٹ بنچ ٹیسٹ میں 54.4 فیصد اسکور حاصل کیا جبکہ میتھوس 5 کا اسکور 78.0 فیصد تھا۔ ایک الگ وقتی ٹیسٹ میں بھی امریکی ماڈل نے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اینتھروپک نے اپنے میتھوس ماڈل کو صرف منظور شدہ اور تصدیق شدہ اداروں تک محدود رکھا ہے تاکہ سیکیورٹی کے خطرات سے بچا جا سکے، کیونکہ ایسے سسٹمز غلط ہاتھوں میں جا کر نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، زی اے آئی کا ارادہ ہے کہ وہ سیکیورٹی جائزوں کی تکمیل کے بعد جی ایل ایم 5.3 کو تقریباً دو ہفتوں میں عوامی سطح پر ریلیز کرے گا۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے انتہائی حساس سائبر سیکیورٹی افعال صرف 'ٹرسٹڈ ایکسیس' پروگرام کے ذریعے تصدیق شدہ صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے۔
اس پیش رفت کو اے آئی گورننس کے ماہرین ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی لیبارٹری نے حفاظتی خدشات کی بنیاد پر کسی ماڈل کے اوپن ریلیز میں تاخیر کو عوامی سطح پر درست ثابت کیا ہے۔ زی اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس ماڈل کے ساتھ ایک 'اوپن سورس شیلڈ' نامی اقدام کا بھی آغاز کرے گا تاکہ سلیکٹڈ اوپن سورس پروجیکٹس کا آڈٹ کیا جا سکے اور دفاعی نوعیت کے کاموں کے لیے ماڈل تک رسائی فراہم کی جا سکے، جو کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑا قدم ہے۔