Technology
فلੌک سرویلنس کی غلطی: خاتون کو سات ماہ تک قانونی مسائل کا سامنا
فلੌک سرویلنس ٹیکنالوجی کی غلط شناخت کی وجہ سے ایک بے قصور خاتون کو سات ماہ تک سنگین قانونی مشکلات اور ذہنی اذیت جھیلنا پڑی۔ اس واقعے نے خودکار پولیسنگ سسٹمز اور ان کی درستگی پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکہ میں پولیس کی جانب سے استعمال کی جانے والی جدید خودکار نگرانی کی ٹیکنالوجی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ایک حالیہ واقعے کے مطابق، فلੌک سرویلنس سسٹم کی جانب سے گاڑی کی غلط شناخت کیے جانے کے نتیجے میں ایک بے قصور خاتون کو سات ماہ طویل قانونی اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کی جانب سے اس سسٹمیٹک غلطی کو بروقت نہ سمجھنے کی وجہ سے متاثرہ خاتون کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑے اور اسے غیر ضروری ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ اکتوبر میں پیش آیا جب فلੌک سسٹمز نے مبینہ طور پر ایک تیز رفتار گاڑی کی شناخت کی۔ تاہم، نظام کی خامی یا ڈیٹا کی غلط پروسیسنگ کی وجہ سے پولیس حکام نے اصل مجرم یا گاڑی کے بجائے ایک دوسری خاتون کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس غلط شناخت کی بنیاد پر خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا، جس سے اس کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔ متاثرہ خاتون اور اس کے وکیلوں کو مسلسل یہ ثابت کرنے کی جدوجہد کرنی پڑی کہ جس وقت کا واقعہ ہے، اس وقت وہ یا اس کی گاڑی وہاں موجود ہی نہیں تھی۔
اس نوعیت کے واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نجی اور پبلک سیکٹر میں استعمال ہونے والے اے آئی اور سرویلنس سسٹمز کے استعمال پر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی پولیس کے کام کو آسان بناتی ہے، لیکن اس کی غیر تصدیق شدہ رپورٹس پر اندھا دھند انحصار شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اب سول سبتھ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس قسم کے نگرانی کے آلات کے استعمال میں مزید شفافیت لائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بے قصور شہری کو اس طرح کی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔