LIVE
Loading Breaking News...

نوجوان نرسوں میں خاموشی کا رویہ اور تنظیمی تعاون پر جامع مطالعہ

News Image
ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوان نرسوں میں حد سے زیادہ قابلیت کا احساس ان کے اندر خاموشی کے رویے کو فروغ دیتا ہے۔ اس مطالعے میں تنظیمی تعاون اور سطحی اداکاری کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
نرسنگ کے شعبے میں نوجوان نرسیں مستقبل کی بنیادی افرادی قوت کی حیثیت رکھتی ہیں، تاہم انہیں اکثر اپنے اندر قابلیت کے حد سے زیادہ ہونے کا شدید احساس ہوتا ہے۔ یہ صورتحال ان کے پیشہ ورانہ رویوں اور ذاتی فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جس سے وہ اکثر کام کی جگہ پر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ خاموشی کا رویہ نہ صرف ان کی اپنی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ مجموعی طور پر طبی اداروں کے تنظیمی ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں کی جانے والی ایک نئی کراس سیکشنل تحقیق نے ان تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے تاکہ اس رجحان کے محرکات کو سمجھا جا سکے۔ محققین کے مطابق، جب نوجوان نرسیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کی صلاحیتیں ان کے موجودہ عہدے یا ذمہ داریوں سے کہیں زیادہ ہیں، تو وہ اپنے خیالات اور خدشات کا کھل کر اظہار کرنے سے گریز کرنے لگتی ہیں۔ اس عمل میں 'سطحی اداکاری' اور 'تنظیمی تعاون کے ادراک' کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر نرسوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کے ادارے یا انتظامیہ کی طرف سے انہیں مناسب تعاون اور پذیرائی نہیں مل رہی ہے، تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں اور مسائل پر بات کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ رویہ ان کے اندر ذہنی تناؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طبی اداروں کے منتظمین اور پالیسی سازوں کو نوجوان نرسوں کی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگاتے ہوئے انہیں مناسب مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔ ادارے اگر ایک ایسا سازگار ماحول اور مؤثر تنظیمی تعاون فراہم کریں جہاں نرسیں بغیر کسی خوف کے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں، تو اس خاموشی کے رجحان کو کامیابی سے کم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف نوجوان نرسوں کی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔