Business
پٹرولیم لیوی کی ریکارڈ وصولی اور معاشی اعشاریے
مالی سال کے دوران پاکستان میں پٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولی نے تاریخ میں پہلی بار ایک اعشاریہ پانچ سات ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح عبور کر لی ہے۔ حکومت نے اس دوران عالمی مالیاتی ادارے کے مقرر کردہ سرپلس کے اہداف کو بھی کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں جہاں پٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولی نے تاریخ میں پہلی بار ایک اعشاریہ پانچ سات ٹریلین روپے کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس ریکارڈ اضافے سے ملکی محصولات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حکومت کو اپنے مالیاتی اہداف حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ زر مبادلہ اور بجٹ سرپلس کے اہداف کو بھی کامیابی سے عبور کر لیا ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔دوسری جانب ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے بھی پاکستانی معیشت کے حوالے سے امید افزا آراء کا اظہار کیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اگر مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تین فیصد سے کم رہتا ہے اور ملکی قرضے ساٹھ فیصد سے نیچے آتے ہیں تو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے دوران مالیاتی خسارہ کم ہو کر دو اعشاریہ چھ فیصد پر آ گیا ہے جو کہ گزشتہ بائیس برسوں میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم ترین خسارہ ہے۔ ان تمام اعشاریوں سے بین الاقوامی منڈیوں اور سرمایہ کاروں میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے اعتماد بڑھ رہا ہے۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت اور دیگر معاشی اشاریے بھی بتدریج بہتری کی سمت گامزن ہیں جس سے عام آدمی کو بھی طویل المدتی ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ معاشی استحکام کے اس تسلسل کو برقرار رکھا جائے تاکہ ملک کو درپیش مالیاتی چیلنجز سے مستقل طور پر نجات مل سکے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو۔