Business
امریکہ میں جولائی میں پرچون فروخت میں کمی اور معاشی اثرات
امریکہ میں رواں سال جولائی کے مہینے میں پرچون فروخت میں غیر متوقع کمی واقع ہوئی ہے جو ایک سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ ہے۔ اس معاشی اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد وفاقی ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو دھچکا لگا ہے۔
امریکہ سے موصول ہونے والی معاشی اطلاعات کے مطابق رواں برس جولائی کے مہینے میں ملک کے اندر پرچون فروخت (Retail Sales) میں غیر متوقع طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین اور روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق جولائی میں پرچون فروخت میں صفر عشاریہ چھ فیصد (0.6%) کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے، جو کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی ماہانہ کمی ہے۔ حکومت کی طرف سے ملنے والے ٹیکس ریفنڈز ختم ہونے اور مہنگائی کے دباؤ کو اس گراوٹ کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے معاشی تجزیہ کاروں کو سوچ میں ڈال دیا ہے کیونکہ اس سے قبل مارکیٹ کی توقعات اس کے برعکس تھیں۔ اس معاشی اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اسے ایک اہم معاشی اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس صورتحال کا اثر سونے اور چاندی جیسی قیمتی دھاتوں پر بھی پڑا ہے جن کی قیمتوں میں نرم ریٹیل سیلز کے بعد بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ کمزور معاشی اشاریوں کی وجہ سے اب فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کم ہو گئے ہیں، جس سے مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مالیاتی منڈیوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکی صارفین کے خرچ کرنے کے رویے اور افراط زر کی شرح پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ معیشت کے آئندہ رخ کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور کاروباری سرگرمیوں کے ممکنہ اثرات کو سمجھا جا سکے۔