LIVE
Loading Breaking News...

برقی گاڑیوں کے فروخت کے اہداف میں کمی کا امکان

News Image
حکومت کی جانب سے کار ساز کمپنیوں کے شدید دباؤ کے بعد 2030 تک برقی گاڑیوں کے فروخت کا ہدف 80 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی سے آٹوموبائل انڈسٹری کو اپنے پیداواری منصوبوں میں ردوبدل کرنے کا موقع ملے گا۔
برطانوی یا دیگر عالمی حکومتوں کی جانب سے ماحول دوست توانائی اور ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں ایک اہم تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کار ساز کمپنیوں کی جانب سے مسلسل دباؤ کے بعد حکومت برقی گاڑیوں کے فروخت کے اہداف پر نظرثانی کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ابتدائی منصوبے کے تحت 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 80 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جسے اب کم کر کے 50 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔ آٹوموبائل انڈسٹری کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں صارفین کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کی رفتار اتنی تیز نہیں ہے جتنا کہ ابتدائی تخمینوں میں ظاہر کیا گیا تھا، اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔ کمپنیاں اس بات پر زور دے رہی تھیں کہ اگر ان اہداف میں نرمی نہ کی گئی تو صنعت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پیداواری عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں حکومت اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ مارکیٹ کی موجودہ حقیقتوں اور صنعت کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہداف کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے روایتی گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروخت کنندگان کو کچھ مزید وقت اور ریلیف مل جائے گا، تاہم ماحولیاتی کارکنوں کی طرف سے اس تبدیلی پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے طویل المدتی اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے حتمی فیصلے کا اعلان آنے والے چند ہفتوں میں متوقع ہے، جس کا براہ راست اثر پوری عالمی آٹوموبائل مارکیٹ پر پڑے گا۔