LIVE
Loading Breaking News...

سائبر کرائم اور اے آئی ہالوسینیشن: مجرموں کا نیا طریقہ کار

News Image
مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی جانب سے غلط معلومات یا ہالوسینیشن کی خامی اب سائبر مجرموں کے لیے منافع بخش کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ مجرم اے آئی ماڈلز کے ذریعے جنریٹ ہونے والے فرضی یو آر ایلز کو رجسٹر کر کے آن لائن دھوکہ دہی میں ملوث ہیں۔
آج کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) انسانی زندگی اور کام کے انداز کو یکسر تبدیل کر رہی ہے، وہیں اس ٹیکنالوجی کی کچھ خامیاں اب سائبر مجرموں کے لیے منافع بخش کاروبار بنتی جا رہی ہیں۔ جدید ترین لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) میں اکثر ایک مسئلہ پایا جاتا ہے جسے 'ہالوسینیشن' یا تخیلاتی غلطی کہا جاتا ہے۔ اس خامی کے دوران اے آئی بعض اوقات ایسے جوابات دیتا ہے جو بظاہر بالکل درست اور قابلِ اعتبار معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں سراسر غلط یا من گھڑت ہوتے ہیں۔ ماہرینِ کے مطابق، اب سائبر مجرموں نے اس تکنیکی خامی کو بھانپ لیا ہے اور اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سائبر مجرم مخصوص قسم کے پرامپٹس یا سوالات کے ذریعے اے آئی ماڈلز کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ وہ ایسے ویب لنکس یا یو آر ایلز فراہم کریں جو حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کی جانب سے بار بار ایک ہی جیسے فرضی ڈومین نام تجویز کیے جاتے ہیں، جنہیں یہ مجرم بعد میں خود جا کر باقاعدہ طور پر رجسٹر کروا لیتے ہیں۔ ڈومین رجسٹر کرنے کے بعد مجرم ان پر مشکوک یا جعل ساز ویب سائٹس تیار کر لیتے ہیں، تاکہ صارفین کو پھنسایا جا سکے اور ان کی ذاتی معلومات چوری کی جا سکیں۔ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہی ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ اس صورتحال نے مصنوعی ذہانت کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ جب تک اے آئی ماڈلز کو اس خامی سے پاک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اس طرح کے جرائم میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے الگورتھمز کو مزید سخت اور محفوظ بنائیں تاکہ اس قسم کی جعل سازی سے عام صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دوسری طرف، عام انٹرنیٹ صارفین کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم یا غیر مصدقہ لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں اور اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔