Technology
اے آئی سائیبر واچ کا نیا آئی ٹی-او ٹی سائیبر فیوژن سینٹر کا قیام
اے آئی سائیبر واچ نے دہلی این سی آر میں ایک جدید آئی ٹی-او ٹی سائیبر فیوژن سینٹر کا افتتاح کیا ہے جو انٹرپرائز آئی ٹی اور آپریشنل ٹیکنالوجی کی سیکیورٹی کو مضبوط بنائے گا۔ یہ نیا مرکز جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے صنعتی سائیبر خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
فرید آباد، ہریانہ میں واقع معروف تکنیکی ادارے اے آئی سائیبر واچ (این جی بی پی ایس لمیٹڈ) نے دہلی این سی آر میں اپنے نئے آئی ٹی-او ٹی سائیبر فیوژن سینٹر کے باضابطہ افتتاح کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ جدید مرکز انٹرپرائز انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آپریشنل ٹیکنالوجی سیکیورٹی کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا بنیادی مقصد صنعتی اداروں کو جدید ترین سائیبر خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ اس مرکز کے قیام سے کارپوریٹ اداروں کو ایک ایسا مربوط پلیٹ فارم میسر آئے گا جہاں وہ ڈیجیٹل اور فزیکل سسٹمز پر بیک وقت نظر رکھ سکیں گے۔
حالیہ برسوں میں صنعتی آٹومیشن اور انٹرپرائز نیٹ ورکس کے باہم ملنے کی وجہ سے سائیبر حملوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روایتی طور پر آئی ٹی اور او ٹی سسٹمز کو الگ تھلگ رکھا جاتا تھا، لیکن ڈیجیٹل تبدیلی کے اس دور میں دونوں کا انضمام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اے آئی سائیبر واچ کا یہ نیا فیوژن سینٹر اسی خلا کو پر کرتا ہے اور دونوں سسٹمز کے درمیان سیکیورٹی کے معاملات کو ایک ہی چھت کے نیچے حل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے خطرات کی نشاندہی اور ان کا فوری سدباب کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی تنصیبات اور اہم ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط دفاعی حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیا فیوژن سینٹر مصنوعی ذہانت اور جدید ترین تجزیاتی ٹولز سے لیس ہے جو ریئل ٹائم میں خطرات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری اداروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ وہ کسی بھی ناگہانی سائیبر حملے کے خلاف زیادہ مضبوطی سے دفاع کر سکیں گے۔ اے آئی سائیبر واچ کا یہ قدم خطے میں سائیبر سیکیورٹی کے معیار کو مزید بلند کرنے کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔