World
مدراس ہائی کورٹ میں مائیکرو پلاسٹک اور پی ای ٹی پیکیجنگ تنازع
مدراس ہائی کورٹ میں ہونے والی اہم سماعت سے پہلے پی ای ٹی پیکیجنگ سے ہونے والے نقصانات کے شواہد پر صنعت اور ماحولیاتی کارکنان آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین مائیکرو پلاسٹک کے ذرائع پر وسیع ضابطہ کاری کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ صنعت کے نمائندے شواہد کی صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
چেন্নائی: مدراس ہائی کورٹ میں جمعہ کو ہونے والی ایک اہم سماعت سے قبل مائیکرو پلاسٹک کے ممکنہ خطرات اور اس کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے جاری تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ماحولیاتی کارکنان اور تنظیمیں مائیکرو پلاسٹک کے تمام ذرائع پر سخت اور وسیع ضابطہ کاری کا مطالبہ کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف صنعتی اداروں بالخصوص پی ای ٹی پیکیجنگ سے وابستہ افراد نے اس حوالے سے پیش کیے جانے والے نقصانات کے سائنسی شواہد پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اور وکیلوں کا مؤقف ہے کہ مائیکرو پلاسٹک ہمارے پانی، خوراک اور یہاں تک کہ خون میں بھی شامل ہو چکا ہے جو انسانی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور عدالتیں پلاسٹک کی پیکیجنگ، بالخصوص پی ای ٹی بوتلوں اور دیگر اشیا کے استعمال پر کڑی نظر رکھیں اور مائیکرو پلاسٹک کے اخراج کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ دوسری جانب صنعت سے وابستہ فریقین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد ناکافی ہیں اور اس بنیاد پر پوری صنعت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا یا پابندیاں عائد کرنا معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل اور سائنسی رپورٹس پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ عدلیہ کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں بھارت سمیت دنیا بھر میں پلاسٹک انڈسٹری اور ماحولیاتی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عوامی حلقے بھی اس مقدمے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ براہ راست عام لوگوں کی صحت اور روزمرہ کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے جمعہ کے روز متوقع احکام اس بحث کو ایک نیا موڑ دے سکتے ہیں جہاں معاشی مفادات اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔