World
عمان کے قریب آئل ٹینکر کی ریسکیو کارروائیاں شروع
عمان کے ساحل پر پھنسنے والے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ماہرین اور خصوصی آلات کی مدد سے جہاز کو مستحکم کرنے اور کسی بھی ممکنہ بحران کو ٹالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
عالمی میری ٹائم سیکیورٹی اور انٹیلی جنس فرم امبری (Ambrey) نے عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے والے تیل بردار جہاز 'کیرولین بیزینگی' کے لیے ایک بڑے بین الاقوامی ریسکیو اور سالویج آپریشن کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں جہاز کو محفوظ بنانے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے خصوصی عملے اور جدید آلات کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ میری ٹائم ذرائع کے مطابق عملہ جہاز کو فوری طور پر مستحکم کرنے کی دوڑ میں مصروف ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے حادثے یا ماحولیاتی نقصان کو روکا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں نام نہاد شیڈو فلیٹ سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو سمندری سفر کے دوران تکنیکی یا انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 'کیرولین بیزینگی' کے پھنسنے کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم اداروں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے ہیں۔ ماہرین کی ٹیمیں جہاز کے ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جہاز سے کسی بھی قسم کے تیل کے اخراج کو روکا جا سکے جو سمندری حیات اور خطے کے ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عمان کے ساحلی علاقوں کے قریب اس نوعیت کی ہنگامی کارروائیاں انتہائی مہارت کی متقاضی ہوتی ہیں، بالخصوص جب خراب موسمی حالات یا سمندری لہریں ریسکیو کے کاموں میں رکاوٹ بنیں۔ امبری اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کام کر رہے ہیں تاکہ جہاز کو بحفاظت اس کی پوزیشن سے نکالا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے چند گھنٹے اس آپریشن کے لیے انتہائی نوعیت کے اہم ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
اس آپریشن کے دوران بین الاقوامی شپنگ کے اصولوں اور ماحولیاتی تحفظ کے ضابطوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے تاکہ بحیرہ عرب اور بحر ہند کے اس اہم تجارتی راستے پر کسی بھی قسم کی طویل المدتی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔ دنیا بھر کی میری ٹائم انڈسٹری کی نظریں اس وقت عمان کے ساحل پر جاری اس اہم سالویج آپریشن پر مرکوز ہیں، جبکہ متعلقہ حکام مسلسل تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔