Politics
اسحاق ڈار کا بیان: مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال ملک بنایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام دیرینہ مسائل کا واحد اور موثر حل صرف اور صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت ایک مضبوط، پرامن اور معاشی طور پر خوشحال پاکستان کی تشکیل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر درپیش چچلنجز سے نمٹنے کے لیے پرامن مذاکرات کا راستہ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر امریکی سفارت کار نے بھی پاکستان اور امریکہ کے مابین ثقافتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی کیلنڈر تجویز کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونکنے میں مدد ملے گی۔ دریں اثنا، پاکستان نے ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد ہی اس سمت میں آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دوست ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اسحاق ڈار کا یہ بیان پاکستان کی اس مستقل خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس میں محاذ آرائی کی بجائے تعاون اور گفت و شنید کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت بھی اسی بیانیے پر کاربند ہے کہ معاشی استحکام اور علاقائی سلامتی کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے۔ حکومت کی جانب سے اس عزم کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آئے گی اور پاکستان عالمی سطح پر اپنے اقتصادی و سفارتی اہداف کو زیادہ بہتر انداز میں حاصل کر سکے گا۔