World
احمد الشراع کا شام کے مستقبل کے لیے وژن اور نئی پالیسیاں
شام کے نو منتخب صدر احمد الشراع نے ایک خصوصی انٹرویو میں ملک کے مستقبل کے لیے اپنے وژن اور ترقیاتی منصوبوں پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے جنگ زدہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
شام کے صدر احمد الشراع نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں ملک کے مستقبل کے لیے اپنے جامع وژن اور نئی پالیسیوں کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شام کو برسوں کی خانہ جنگی اور تباہی سے نکال کر ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور جمہوری ریاست بنایا جائے گا جہاں تمام شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ ان کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پورا ملک طویل ترین بحران کے بعد ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے اور اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئے لائحہ عمل کی اشد ضرورت ہے۔
انٹرویو کے دوران احمد الشراع نے معیشت کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کی بہتری کو اپنی ترجیحات کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام اب تنہائی کی طرف نہیں جائے گا بلکہ خطے اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر سفارتی اور معاشی تعلقات کو فروغ دے گا۔ حکومت کا بنیادی ہدف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، مہنگائی پر قابو پانا اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولتیں جلد از جلد بحال کرنا ہے۔
سیاسی اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر الشراع نے واضح کیا کہ ایک ایسا جامع نظام حکومت تشکیل دیا جائے گا جس میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو۔ انہوں نے رواداری، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام کو ملک کی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ ناقدین اور حامیوں دونوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا نئی قیادت جنگ کے زخموں کو بھرنے اور ایک پائیدار امن قائم کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے، لیکن ابتدائی بیانات اور اقدامات نے عوام میں ایک نئی امید کی لہر ضرور دوڑا دی ہے۔