LIVE
Loading Breaking News...

جیرڈ کشنر کا دورہ اسرائیل، غزہ امن منصوبے پر تبادلہ خیال

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس کے منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد، جیرڈ کشنر اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ سے اسرائیلی انخلا کے منصوبے پر اسرائیلی مخالفت کو دور کرنے کے لیے ہے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں جب وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر اور اعلیٰ امریکی عہدیدار جیرڈ کشنر کے دورہ اسرائیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اہم دورہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے حال ہی میں 'گزہ بورڈ آف پیس' کے تجویز کردہ امن منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا تھا، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کو دھچکا لگا تھا۔ ذرائع کے مطابق جیرڈ کشنر کے اس دورے کا بنیادی مقصد اسرائیلی حکومت کے ساتھ ان تحفظات پر بات چیت کرنا ہے جو مذکورہ امن منصوبے کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ اس جامع منصوبے میں بنیادی طور پر حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی افواج کے انخلا کی تجاویز شامل ہیں، جن کی اسرائیلی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ بورڈ کے ایک باخبر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی وفد اسرائیلی قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کرے گا کہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے اس نوعیت کے امن منصوبے کیوں ضروری ہیں۔ نیتنیاہو انتظامیہ کا موقف ہے کہ یکطرفہ انخلا یا حماس کو فعال رہنے دینا ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جبکہ بین الاقوامی ثالث اس بحران کے حل کے لیے متبادل سفارتی راستے تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کشنر کا یہ دورہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور طویل المدتی جنگ بندی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی حکومت کے سخت مؤقف اور زمینی حقائق کے پیش نظر فریقین کے درمیان کسی بھی سمجھوتے پر پہنچنا انتہائی کٹھن مرحلہ ہوگا، جس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظریں مرکوز ہیں۔