Business
پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ختم، حکومت نے مارجن میں اضافے کی منظوری دیدی
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں فی لیٹر ایک روپیہ چونتیس پیسے اضافے کی منظوری کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں شروع کی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تمام مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے جمعہ کے روز حکومت کی جانب سے ڈیلرز کے مارجن میں مجوزہ ترمیم کی منظوری کے بعد ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی اپنی ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے بھی مارجن میں ترمیم کی توثیق کر دی گئی ہے، تاہم اپنے جاری کردہ بیان میں وزارت نے اضافے کی حتمی رقم کی وضاحت نہیں کی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کے معاملے پر تفصیلی غور کیا اور اس کی منظوری دی۔ دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپیہ چونتیس پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اب کل مارجن بڑھ کر دس روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے مارجن میں آٹھ فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں ہڑتال کی دھمکی دی تھی، جبکہ موجودہ مارجن آٹھ روپے چونسٹھ پیسے فی لیٹر تھا۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے جمعہ کے روز بتایا کہ پیٹرولیم وزیر نے انہیں فون پر مطلع کیا کہ وزیرِ اعظم نے ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپیہ چونتیس پیسے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم، وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے تاحال اس تبدیلی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کی یقین دہانیوں پر ہی ہفتے کی مجوزہ ہڑتال کو فی الحال مؤخر کیا ہے، لیکن چیئرمین نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ جب تک ان کے تمام جائز مطالبات منظور نہیں ہو جاتے، ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری رہے گا۔ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین طارق حسن نے مزید کہا کہ چونکہ پچھلے تین سالوں سے ڈیلرز کے مارجن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے پیٹرولیم ڈیلرز کے لگ بھگ پچاس ملین ڈالر کے واجبات تاحال حکومت کے پاس پھنسے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو بہتر اور فوری حل کے لیے بہتر اور واضح مطالبات پورے نہ کرنے پر بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد مذاکرات کامیاب ہو گئے اور ہڑتال ٹل گئی۔