Business
ریلائنس اور رولز رائس کا لڑاکا طیاروں کے انجن بنانے کا اشتراک
بھارت کی نجی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز اور برطانوی کمپنی رولز رائس نے بھارتی لڑاکا طیاروں کے پروگرام کے لیے انجن ڈیزائن اور تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد بھارت کے 'میک ان انڈیا' اقدام کے تحت دفاعی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی نجی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز اور برطانیہ کے معروف ادارے رولز رائس نے جمعہ کے روز ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھارت کے دیسی ملٹی رول فائٹر جیٹ پروگرام کے لیے انجن ڈیزائن اور تیار کرنے کے بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 'میک ان انڈیا' وژن اور دفاعی شعبے میں ملکی سطح پر پیداوار کو فروغ دینے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک میں شامل بھارت طویل عرصے سے اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اب اس کی توجہ مقامی سطح پر دفاعی ساز و سامان تیار کرنے پر مرکوز ہے۔رولز رائس دنیا بھر میں بوئنگ اور ایئربس جیسے مسافر طیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کے لیے بھی جدید ترین انجن تیار کرنے کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔ دونوں صنعتی اداروں کے مشترکہ بیان کے مطابق یہ شراکت داری بھارت کے جدید میڈیم کامبیٹ ایئرکرافت یعنی اے ایم سی اے پروگرام کے لیے ایک خود مختار اور مقامی جنگی انجن کی ڈیزائننگ، تیاری اور ترسیل کی صلاحیتیں فراہم کرے گی۔ تاہم، اس مشترکہ منصوبے کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کے مالی حجم یا پیمانے کا باضابطہ انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔ اے ایم سی اے بھارت کا ففتھ جنریشن کا اہم اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے جسے فضائیہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیار کیا جا رہا ہے۔رولز رائس کے چیف ایگزیکٹو طوفان ایرگن بلجک نے اس شراکت داری کو ملک میں ایک مضبوط اور خود کفیل ایرو اسپیس ایکو سسٹم کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ریلائنس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اننت امبانی کا کہنا تھا کہ اس اشتراک کا مقصد ایک ایسی پائیدار قومی صلاحیت پیدا کرنا ہے جو بھارت کو جدید پروپلشن ٹیکنالوجی کے میدان میں نہ صرف خود کفیل بنائے بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی مسابقتی حیثیت دلا سکے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کو اپنی روایتی دفاعی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ نئی دہلی گزشتہ ایک دہائی سے روس پر اپنا انحصاری تناسب گھٹا کر امریکہ، فرانس اور ملکی پیداوار کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہا ہے۔