Technology
سین ڈسک ہائی بینڈوتھ فلیش میموری اور اے آئی ٹیکنالوجی
سین ڈسک نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی پہلی ہائی بینڈوتھ فلیش میموری ڈائی کامیابی سے ٹیپ آؤٹ کر لی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے نمونے سال 2027 تک مارکیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
سین ڈسک نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اپنی پہلی ہائی بینڈوتھ فلیش میموری ڈائی تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی تکنیکی ایجاد کا مقصد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی معیشت اور کارکردگی کو یکسر تبدیل کرنا ہے، جو آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق، یہ نئی ہائی بینڈوتھ فلیش میموری پہلے سے موجود نینڈ (NAND) ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کرتی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر سستے اور قابلِ عمل نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف ڈیٹا کی ترسیل میں تیزی آئے گی بلکہ جدید مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کے لیے درکار اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔
صیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ڈیٹا پروسیسنگ کے عمل کو مزید آسان بنا دے گی۔ سین ڈسک اس جدید فلیش میموری ڈائی کے ابتدائی سیمپل یا نمونے سال 2027 تک مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کی تجارتی پیمانے پر دستیابی کی راہ ہموار ہوگی۔