LIVE
Loading Breaking News...

ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا نیا دفاعی معاہدہ اور اے آئی ٹیکنالوجی

News Image
ترکیہ کی وزارت دفاع نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کی نئی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے جس کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کو مشترکہ حملہ تصور کریں گے۔ اس دفاعی تعاون میں جدید مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی ٹیکنالوجی کا تبادلہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
انقرہ: ترکیہ کی وزارت دفاع نے جمعرات کے روز 'مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ' کے حوالے سے اہم اور نئی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ یہ سہ فریقی معاہدہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پایا ہے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان میں سے کسی بھی ایک ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے تینوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق اس معاہدے میں روایتی عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی بھی شامل کی گئی ہے۔ ان جدید ٹیکنالوجیز میں مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار عسکری سسٹمز (Autonomous Systems) کا استعمال اور باہمی تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تینوں برادر ممالک کی عسکری صلاحیتوں میں زبردست اضافہ ہوگا اور وہ آنے والے وقتوں میں ڈیجیٹل اور خودکار جنگی تقاضوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔ اس معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ تینوں ممالک کو ایک مضبوط اور مربوط دفاعی بلاک کے طور پر جوڑتا ہے۔ ترکیہ کے حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اتحاد کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت مشترکہ عسکری مشقیں اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، جن میں سائبر سکیورٹی اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی بھی اہم توجہ کا مرکز ہوں گی۔