Business
حکومت کا پٹرولیم ڈیلرز کا ماہانہ قیمتوں کا مطالبہ مسترد
حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر قیمتیں مقرر کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے تاہم ایکسیئن کمیٹی نے پٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے چونیس پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ مارجن میں اضافے کی منظوری کے بعد ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) وفاقی حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر طے کرنے کا دیرینہ مطالبہ باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں قیمتوں کا تعین صرف باقاعدہ نظام اور طے شدہ فارمولے کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے، جس میں ماہانہ تبدیلی ممکن نہیں۔ دوسری جانب، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مذاکرات کے دوران پٹرول اور ڈیزل کے ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے چونیس پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دیدی ہے، جسے ڈیلرز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا تھا جس سے عوام میں شدید تشویش پھیل گئی تھی۔ تاہم، حکومت اور ڈیلرز کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات اور مارجن میں اضافے کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے اپنی مجوزہ ہڑتال کو فی الفور موخر یا منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جہاں ایک طرف ڈیلرز کے معاشی خدشات کو کسی حد تک دور کیا گیا ہے، وہیں حکومت نے بھی اپنی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے قیمتوں کے روایتی نظام میں بڑی تبدیلی سے گریز کیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں فریقین کے درمیان کاروباری امور کو مزید بہتر بنانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ صارفین اور کاروباری طبقے دونوں کے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔