Politics
ایم جے اکبر کا شہباز شریف کے بیان پر کرارا جواب، سندھ طاس معاہدہ زیر بحث
بھارتی رہنما ایم جے اکبر نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ضائع ہونے والے ہر قطرے کا پاکستان کو حساب دینا ہوگا۔
نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان پانی اور دہشت گردی کے معاملات پر ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ بھارتی سیاستدان اور سابق وزیر ایم جے اکبر نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بیان پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ خون اور پانی کبھی بھی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ ان کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے دریائے سندھ کے پانی کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے بھارت کو سخت نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔
ایم جے اکبر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بھارت کی طرف سے امن کی خواہش کو کبھی بھی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ بھارت کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کا سلسلہ بند کرے اور دہشت گردی کی وجہ سے بہنے والے بھارتی شہریوں کے خون کے ہر ایک قطرے کا حساب دے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سرحد पार سے دہشت گردی جاری رہے گی، دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ بیانات میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کے لیے اس کے پانی کی سلامتی ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بھارتی دباؤ کے خلاف براہ راست اور سخت جواب دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ اس تنازع کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے اور آبی وسائل کا معاملہ ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا اور علاقائی سیاست میں گرم موضوع بن چکا ہے۔
خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے اور آبی حقوق کے تنازعات پہلے ہی دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجوہات رہے ہیں۔ اس تازہ بیان بازی سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی دونوں جانب سے سخت گیر قوم پرست بیانات سامنے آ رہے ہیں جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔