World
فلپائن منشیات جنگ متاثرین: ٹوتھ کمیشن میں انصاف کا مطالبہ
فلپائن میں منشیات کے خلاف سابقہ خونریز جنگ کے متاثرین کے اہل خانہ نے انصاف اور حقائق جاننے کے لیے ٹوتھ کمیشن کے سامنے گواہی دی ہے۔ سالوں کی خاموشی کے بعد اس کمیشن کے ذریعے متاثرین کو اپنے پیاروں کے لیے جوابدہی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
فلپائن میں منشیات کے خلاف ماضی میں لڑی جانے والی متنازعہ اور خونریز جنگ کے متاثرین کے اہل خانہ نے بالاخر انصاف کی تلاش میں ٹوتھ کمیشن کے سامنے اپنی گواہی ریکارڈ کروا دی ہے۔ سالوں تک ستم ظریفی اور خوف کے سائے میں گزارنے کے بعد، اب یہ خاندان اپنے پیاروں کے قتل اور گمشدگیوں کے حوالے سے جوابات اور سچائی کی تلاش کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ماضی کے ان تاریک ادوار میں ہونے والے مبینہ مظالم پر پردہ نہ ڈالا جائے اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔
گواہی دینے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں طویل عرصے سے انصاف سے محروم رکھا گیا تھا اور ریاستی پالیسیوں کے تحت ان کی فریاد کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب جب کہ ٹوتھ کمیشن نے اس معاملے پر کارروائی کا آغاز کیا ہے، تو متاثرین کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اپنی داستانِ غم رکھیں اور ان گنت ہلاکتوں کے حقائق سے پردہ اٹھائیں۔ ان خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف متاثرہ افراد کی عزت نفس بحال کی جائے بلکہ ریاست کی طرف سے اس دوران ہونے والی زیادتیوں کا باقاعدہ اعتراف بھی کیا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے فلپائن میں قانون کی حکمرانی اور احتساب کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کمیشن کی کارروائی سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر سکون ملے گا بلکہ ملک میں حکومتی احتساب کا ایک نیا معیار بھی قائم ہوگا۔ اگرچہ متاثرین کے لیے یہ راستہ اب بھی کٹھن اور چیلنجوں سے بھرپور ہے، تاہم ٹوتھ کمیشن کے سامنے ان کی گواہی نے اس طویل جدوجہد میں ایک نئی امید کی شمع روشن کر دی ہے۔