World
فرانسیسی عدالت کا اعانت یافتہ موت اور سوشل میڈیا پابندی پر بڑا فیصلہ
فرانس کی اعلیٰ عدالت نے اعانت یافتہ موت کے متنازع قانون کو برقرار رکھا ہے جبکہ صدر ایمانوئل میکرون کے حمایت یافتہ نوعمروں کے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کو مسترد کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو فرانسیسی صدر کے لیے بیک وقت ایک بڑی سیاسی فتح اور پسپائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں اعانت یافتہ موت سے متعلق قانون کی توثیق کر دی ہے، تاہم نوعمروں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر عائد کی جانے والی مجوزہ پابندی کے قانون کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ دونوں پالیسیاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اہم سیاسی ایجنڈے کا حصہ تھیں، جنہیں ملک میں نمایاں اہمیت حاصل تھی۔ عدالتی فیصلوں کے بعد صدر میکرون کو ایک ہی وقت میں سیاسی محاذ پر کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اعانت یافتہ موت کے قانون کے حوالے سے عدالت کا یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے ایک بڑی پیشرفت ہے جو طویل عرصے سے اس معاملے پر قانونی وضاحت اور فریم ورک کا مطالبہ کر رہے تھے۔ صدر ایمانوئل میکرون اس پالیسی کے بڑے حامی تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ شدید اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا افراد کو باوقار طریقے سے موت کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ ناقدین اور حامیوں کے درمیان طویل بحث کے بعد عدالت کی جانب سے اس کی توثیق کو انسانی حقوق اور طبی اخلاقیات کے تناظر میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، نوجوان نسل بالخصوص نوعمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومتی اقدام کو عدالت نے مسترد کر دیا۔ حکومت کی جانب سے یہ قانون کم عمر بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے اور آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم، عدالت نے اس قانون کے کچھ پہلوؤں کو آئین اور شخصی آزادی کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا۔
اس دوہرے عدالتی فیصلے نے فرانسیسی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال صدر میکرون کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جو اپنے دورِ صدارت میں کئی اہم معاشرتی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد آنے والے دنوں میں فرانس میں صحت عامہ، ڈیجیٹل حقوق اور ذاتی آزادی کے موضوعات پر مزید بحث چھڑنے کا قوی امکان ہے۔