LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی ایران کے خلاف ناکہ بندی کی دھمکی اور اس کے اثرات

News Image
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہجسیت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ خراب حالات کے باوجود ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مبصرین اس اقدام کے معاشی اور عسکری اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ طور پر غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی بحری ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہجسیت نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ تمام تر مشکلات اور جہازوں کے خراب حالات کی رپورٹس کے باوجود اس ناکہ بندی کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکی بحری افواج خلیجی خطے میں اپنے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ دوسری جانب، دفاعی ماہرین اور ناقدین اس طویل مدتی ناکہ بندی کے عملی نفاذ اور اس کے ممکنہ نتائج پر گہرے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے طویل بحری مشنوں کے دوران عملے کو شدید نوعیت کے چیلنجز اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے بحری بیڑے کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ امریکی افواج کسی بھی قسم کی طویل المدتی مہم جوئی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر توانائی کی سپلائی لائنز اور بحری تجارت سے وابستہ ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی پانیوں میں تناؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ خطے میں موجود دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی بحران سے نمٹا جا سکے۔