World
جدید دفاعی نظام اور فوجی حکمت عملی میں انقلابی تبدیلیاں
ڈیلی ریکننگ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دفاعی شعبے میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق روایتی فوجی نظام اب پرانا ہو چکا ہے اور اس میں جدید سرمائے کی بھاری منتقلی جاری ہے۔
ڈیلی ریکننگ میں شائع ہونے والی ایک فکر انگیز تحریر کے مطابق اب دنیا کا روایتی اور پرانا فوجی نظام ختم ہو چکا ہے۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جنگی حکمت عملی اور عسکری سازوسامان کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے، جس سے پرانے انداز کی فوجیں اب غیر موثر ہوتی جا رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اب اربوں روپے اور ڈالرز کا سرمایا روایتی انفراسٹرکچر سے ہٹ کر جدید عسکری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور سائبر دفاعی نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف طاقت کے توازن کو ہی تبدیل نہیں کر رہی بلکہ دنیا بھر کی بڑی بڑی دفاعی صنعتوں کے کام کرنے کے انداز کو بھی نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہے۔ سرمایہ کار اس شعبے میں نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں جہاں تیزی سے ترقی ممکن ہے۔
مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو روایتی فوجیں اب جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس لیے دفاعی ماہرین اور پالیسی سازوں کی پوری توجہ اب ڈیجیٹل اور خودکار نظاموں کی تیاری پر مرکوز ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے کہ عسکری ادارے جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالیں تاکہ بدلتی ہوئی عالمی سکیورٹی کی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔