World
ٹرمپ انتظامیہ کی سرحد پر سخت پالیسی، 15 ماہ سے زیرو ریلیز کا دعویٰ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مسلسل پندرہ ماہ تک سرحد پر کسی بھی تارکین وطن کو بغیر کارروائی چھوڑے بغیر سخت پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا ہے۔ اس دوران حکام کے مطابق سرحدی گرفتاریوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مسلسل پندرہ ماہ تک سرحد پر کسی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا حراست کے رہا کیے بغیر اپنی سخت پالیسی پر کامیابی سے عمل درآمد کیا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق جمعرات تک کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرحدی امور میں انتہائی سختی برتی جا رہی ہے تاکہ غیر قانونی داخلے کے رجحان کو روکا جا سکے۔ وزارت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی گرفتاریوں اور سرحدی خلاف ورزیوں میں بھی ڈرامائی کمی دیکھی گئی ہے جو کہ موجودہ انتظامیہ کی موثر حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان اور سیکرٹری کے دفاتر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، سرحدی علاقوں میں تعینات فورسز نے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ ماضی کے برعکس اب غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کو فوری طور پر حراست میں لے کر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، اور کسی کو بھی بغیر جانچ پڑتال کے ملک کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پندرہ ماہ کا یہ طویل عرصہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حکومتی احکامات پر زمینی سطح پر انتہائی سختی اور نظم و ضبط کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے۔
اس پالیسی کے نفاذ سے ملکی سطح پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی زبردست بحث جاری ہے جہاں ایک طرف اسے ملکی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہی ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کا موقف ہے کہ سرحدی قوانین کی سختی سے پاسداری ملکی مفاد میں ہے اور اس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی اس پالیسی کو مزید سخت کرنے اور سرحدی نگرانی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔