World
چینی انٹیلی جنس اہلکار کی وائٹ ہاؤس کے قریب عمارت کی خریداری پر تشویش
چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے بالکل سامنے واقع ایک تاریخی عمارت خرید لی ہے۔ امریکی سکیورٹی حلقوں نے اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے ایک سینئر انٹیلی جنس عہدیدار نے وائٹ ہاؤس کے بالکل سامنے واقع ایک تاریخی عمارت کی خریداری مکمل کر لی ہے۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد امریکی دارالحکومت کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، اور اس معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقام سے امریکی صدر کی رہائش گاہ اور اہم سرکاری دفاتر کی نگرانی کرنا انتہائی آسان ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکورٹیز بلڈنگ نامی اس عمارت کی خریداری کے پیچھے ایسے نامعلوم مالیاتی ذرائع اور شیل کمپنیاں استعمال کی گئی ہیں جو اصل خریدار کی شناخت کو چھپانے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں۔ تاہم، امریکی انٹیلی جنس اور سیکورٹی اداروں نے جب اس ڈیل کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کے تار براہ راست بیجنگ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین انٹیلی جنس نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس انکشاف نے واشنگٹن کے فیصلہ ساز اداروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
امریکی کانگریس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ارکان نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکام سے فوری طور پر اس بات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ کس طرح ایک غیر ملکی طاقت کا نمائندہ اتنی حساس پوزیشن پر جائیداد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکی انسدادِ جاسوسی کے نظام میں ایک بڑا سقم ظاہر کرتا ہے، اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس عمارت کو مستقبل میں جاسوسی اور الیکٹرانک سرویلنس کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس غیر ملکی ملکیت کو چیلنج کرنے یا قومی سلامتی کے تحت اس عمارت کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے کیا قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر واشنگٹن میں اہم تنصیبات کے ارد گرد غیر ملکی جائیدادوں کی خریداری کے قوانین پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔