Politics
ٹرمپ اور نیتن یاہو وائٹ ہاؤس ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں انتہائی متوقع ملاقات سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حوالے سے اپنی سخت مایوسی اور برہمی کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور جنگ کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے مختلف دباؤ اور سیاسی خطرات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں ساتویں بار میزبانی کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار نیتن یاہو کا یہ دورہ کافی مختلف اور کمزور پوزیشن میں ہو رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کو امریکی حمایت اور امداد کے بغیر بقا میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ سخت تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور امریکی انتظامیہ پر بھی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، ٹرمپ نے تمام سیاسی خطرات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اسرائیلی رہنما کو خوش آمدید کہا اور ملاقات کا سلسلہ شروع کیا۔
اس اہم ملاقات میں مشرق وسطیٰ کے امور، سکیورٹی چیلنجز اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے۔ عالمی میڈیا اس بیٹھک پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج خطے کے مستقبل اور جنگی صورتحال پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرے میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس یا اہم بیانات متوقع ہیں جن میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔