World
نیتن یاہو کا برطانیہ کے خلاف متنازعہ بیان اور اس پر ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک انٹرویو کے دوران برطانیہ کو 'برطانیہ کی اسلامی جمہوریہ' کہہ کر مخاطب کیا۔ ان کے اس متنازعہ بیان پر برطانیہ میں یہودی رہنماؤں اور دیگر شخصیات کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے حالیہ متنازعہ بیانات کے ذریعے ایک بار پھر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کو طنزیہ انداز میں ’برطانیہ کی اسلامی جمہوریہ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ دنیا کی پہلی ایسی ریاست بن گئی ہے جو جوہری ہتھیار حاصل کرنے جارہی ہے۔ ان کے اس بیان نے برطانوی اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے اور اس پر مختلف طبقات کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
برطانیہ کے معروف صحافی اور میزبان پیئرز مورگن نے نیتن یاہو کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے مؤقف کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، برطانیہ میں ترقی پسند یہودیت کے رہنماؤں نے بھی اسرائیلی وزیراعظم کے اس تضحیک آمیز طعنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے روایتی تعلقات اور برطانوی یہودی کمیونٹی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بینجمن نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل کی پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ اس متنازعہ بیان کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی سطح پر بھی تحفظات کا اظہار کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ برطانوی معاشرے میں تمام مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والے باہم رواداری کے ساتھ رہتے ہیں۔