LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی سفارت کاروں کے لیے بیونس آئرس الاؤنس ختم

News Image
برطانوی حکومت نے بیونس آئرس میں تعینات ہونے والے اپنے سرکاری ملازمین اور سفارت کاروں کو ملنے والا مالی الاؤنس ختم کر دیا ہے۔ یہ اضافی رقم دنیا کے مشکل یا خطرناک شہروں میں کام کرنے والے عملے کو دی جاتی تھی۔
برطانوی حکومت نے ایک اہم انتظامی فیصلے کے تحت بیونس آئرس میں تعینات اپنے سفارت کاروں اور سرکاری ملازمین کے لیے مشکلات کا الاؤنس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عام طور پر برطانوی سول سرਵਨٹس اور سفارتی عملے کو دنیا کے ایسے شہروں میں کام کرنے پر اضافی مالی معاونت یا الاؤنس دیا جاتا ہے جو یا تو انتہائی مشکل حالات کے حامل ہوں یا پھر سکیورٹی کے لحاظ سے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد اب ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں فرائض سر انجام دینے والے برطانوی عملے کو اس خصوصی مالی مراعات سے محروم ہونا پڑے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق ان تمام متعلقہ افراد پر ہو گا جو اس وقت یا مستقبل میں اس شہر میں تعینات ہوں گے۔ حکارتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سفارتی اخراجات کے جائزے اور بجٹ کی اصلاحات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی سطح پر دی جانے والی مختلف مراعات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، اس فیصلے سے متاثر ہونے والے حلقوں اور سفارتی عملے میں ملازمین کے حقوق اور اخراجات زندگی کے تناسب سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم برطانوی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام فیصلے انتظامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنز کے اخراجات کو محدود اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے، تاکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔