LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارہ: اسرائیلی حکومت آباد کاروں کے تشدد سے لاتعلق نہیں رہ سکتی

News Image
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والا تشدّد فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا مکروہ منصوبہ ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی حکومت اپنے اس مؤقف سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ وہ ان کارروائیوں سے لاعلم ہے۔
عالمی اور مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدّد اور ریاستی سرپرستی میں زمینوں پر قبضے کی کارروائیاں محض انفرادی نوعیت کے واقعات نہیں ہیں۔ ان تمام جارحانہ اقدامات کا بنیادی مقصد مقامی فلسطینی آبادی کو جبراً ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے بے دخل کرنا اور اس خطے کو باضابطہ طور پر ضم کرنا ہے۔ اس تشدّدی لہر نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اس نازک صورتحال کی طرف مبذول کرائی ہے جہاں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی حکومت اس حقیقت سے کسی صورت منہ نہیں موڑ سکتی اور نہ ہی وہ آباد کاروں کی ان پرتشدد کارروائیوں سے اپنی لاتعلقی کا دعویٰ کر سکتی ہے، کیونکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی خاموش یا بعض اوقات براہ راست حمایت اس عمل کو مزید شہ دے رہی ہے۔ رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں شدت پسند آباد کاروں کی طرف سے ہونے والے حملوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان حملوں کا نشانہ اکثر دیہی علاقے، کھیفت اور وہ فلسطینی خاندان بنتے ہیں جو برسوں سے اپنی زمینوں پر آباد ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تشدّد ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت خوف کی فضا پیدا کی جاتی ہے تاکہ فلسطینی خود بخود اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی فورسز اکثر خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں یا پھر بعض مواقع پر وہ خود جارحیت کرنے والے آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرتی دکھائی دیتی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس پورے عمل میں کہیں نہ کہیں سرکاری سرپرستی شامل ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے ضابطوں پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیوں کی تعمیر اور پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تاہم، عملی اقدامات کے فقدان کی وجہ سے زمین پر حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی برادری اسرائیلی حکومت پر حقیقی اور مؤثر دباؤ نہیں ڈالتی، اس وقت تک مغربی کنارے کے نہتے فلسطینی اس ریاستی اور نیم فوجی تشدد کا نشانہ بنتے رہیں گے اور خطے میں پائیدار امن کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔