World
برطانوی شاہی خاندان کے اے لیول امتحانات کے نتائج کی تفصیلات
برطانوی شاہی خاندان کے اہم ترین افراد کی تعلیمی قابلیت اور اے لیول کے امتحانات کے نتائج عوام میں ہمیشہ سے دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں شہزادہ ولیم، شہزادہ ہیری اور پرنسز آف ویلز کیٹ مڈلٹن کے تعلیمی سفر اور حاصل کردہ نمبروں کی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان کے افراد کی ذاتی زندگی اور ان کی تعلیمی قابلیت کے حوالے سے دنیا بھر میں ہمیشہ سے گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔ جب بات تعلیمی میدان کی ہو تو لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب رہتے ہیں کہ شاہی خاندان کے چشم و چراغ نے اسکول اور کالج کی سطح پر کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ حال ہی میں برطانوی شاہی خاندان کے اہم ترین اراکین یعنی کیٹ مڈلٹن، شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے اے لیول امتحانات کے نتائج کے حوالے سے تفصیلات سامنے آئی ہیں جو کہ ان کی تعلیمی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
پرنسز آف ویلز کیٹ مڈلٹن نے مارلبورو کالج سے اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اپنے اے لیول امتحانات میں انہوں نے ریاضی اور آرٹ میں اے گریڈز حاصل کیے جبکہ تاریخ کے مضمون میں بی گریڈ حاصل کیا۔ ان شاندار نمبروں کی بدولت انہیں بعد میں ایڈنبرا یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا، تاہم انہوں نے بعد میں سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں ان کی ملاقات شہزادہ ولیم سے ہوئی تھی۔ کیٹ مڈلٹن کی تعلیمی قابلیت ہمیشہ سے ان کی سنجیدہ شخصیت کی عکاس رہی ہے۔
دوسری جانب، برطانوی تخت کے وارث شہزادہ ولیم نے ایٹن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ شہزادہ ولیم کے اے لیول کے نتائج کی بات کی جائے تو انہوں نے جغرافیہ میں اے گریڈ، آرٹ میں بی گریڈ اور بائیولوجی میں سی گریڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بھی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور جغرافیہ کی بجائے آرٹ ہسٹری میں اپنی ڈگری مکمل کی۔ ان کے تعلیمی نتائج کو ان کے دور کے حوالے سے کافی تسلی بخش اور معیاری سمجھا جاتا تھا۔
شہزادہ ہیری، جنہوں نے اپنے بڑے بھائی کی طرح ایٹن کالج سے ہی تعلیم حاصل کی، کے تعلیمی نتائج ولیم اور کیٹ کے مقابلے میں کچھ مختلف تھے۔ شہزادہ ہیری نے آرٹ میں اے گریڈ اور جغرافیہ میں بی گریڈ حاصل کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے روایتی یونیورسٹی جانے کے بجائے ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ کا رخ کیا اور برطانوی فوج میں باقاعدہ خدمات سرانجام دیں۔ شاہی خاندان کے ان تینوں اہم اراکین کے اے لیول کے یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی میں محنت سے کام لیا اور اپنے لیے موزوں ترین کیریئر کا انتخاب کیا۔