LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ میڈیا کا ٹروتھ سوشل پوسٹس فروخت کرنے کا منصوبہ اور قانونی چیلنج

News Image
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹروتھ سوشل کی پوسٹس تک ارلی رسائی ایک لاکھ ڈالر ماہانہ میں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس متنازعہ منصوبے کے خلاف عدالت میں ایک مقدمہ بھی دائر کر دیا گیا ہے جو کمپنی کے لیے قانونی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت ہے اور معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کو آپریٹ کرتا ہے، ایک بار پھر قانونی تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے ایک نیا اور متنازعہ کاروباری منصوبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت ٹروتھ سوشل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس تک ارلی رسائی یا سب سے پہلے معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر ماہانہ فیس مقرر کی گئی ہے۔ اس قدم کا مقصد کمپنی کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہے، تاہم اس پر اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے سامنے آنے کے بعد اب ایک باضابطہ مقدمہ بھی دائر کر دیا گیا ہے جس میں اس پالیسی کی قانونی حیثیت اور شفافیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مدعیان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی تجارتی حکمت عملی سے معلومات کی منصفانہ رسائی متاثر ہوتی ہے اور چند مخصوص اور امیر سرمایہ کاروں کو سیاسی و سماجی سطح پر अनुचित فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ میڈیا کے ترجمانوں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کاروباری ترقی اور ڈیجیٹل مارکیٹ کی مسابقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں کسی بھی پلیٹ فارم کی جانب سے مواد کی اس نوعیت کی براہ راست مانیٹائزیشن کو ماہرینِ قانون اور ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کی طرف سے بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پلیٹ فارم کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ٹروتھ سوشل پہلے ہی روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مقابلے میں ایک الگ سیاسی اور فکری بیانیے کے ساتھ مارکیٹ میں کام کر رہا ہے، اور اس طرح کے مالیاتی اقدامات اس کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ صرف مالی معاملات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے طویل المدتی اثرات کارپوریٹ گورننس اور ڈیجیٹل آزادی کے اصولوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ کمپنی کے حصص اور مارکیٹ ویلیو پر بھی اس تنازعے کے منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کار ایسے غیر یقینی قانونی حالات سے گریز کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عدالت میں ہونے والی سماعتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا ٹرمپ میڈیا اپنے اس مہنگے ارلی رسائی کے ماڈل کو جاری رکھ پائے گا یا اسے اس پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کرنا پڑے گی۔ دریں اثنا، ٹروتھ سوشل کے صارفین اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبردار اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ فیصلہ مستقبل میں سوشل میڈیا کی دنیا میں معلومات کی خرید و فروخت کے رجحانات پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔