Technology
ٹروتھ سوشل پیڈ سروس کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ
دو میڈیا گروپس نے ٹروتھ سوشل کی نئی پیڈ اے پی آئی سروس کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے جو صدارتی پوسٹس تک قبل از وقت رسائی فراہم کرتی ہے۔ مدعیوں کا مؤقف ہے کہ یہ سروس آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی اور کرپٹ طریقہ کار ہے۔
امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' کی ایک نئی سروس کے خلاف دو بڑے میڈیا گروپس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ اس مقدمے کا بنیادی مقصد اس نئی پیڈ سروس کو فوری طور پر روکنا ہے جو صارفین کو صدارتی اور اہم سیاسی پوسٹس تک قبل از وقت رسائی فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ مقدمہ دائر کرنے والے فریقین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فیس بیسڈ اے پی آئی سروس بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہے اور شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔
شکایت درج کرانے والوں کا مؤقف ہے کہ ٹروتھ سوشل کی یہ نئی سروس پبلک انفارمیشن تک رسائی کو محدود کرتی ہے اور چارجز وصول کرکے خاص طبقات کو فوقیت دیتی ہے۔ انہوں نے اسے قانون اور آئین کی پہلی ترمیم کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے جو آزادی اظہار اور معلومات تک مساوی رسائی کی ضمانت دیتی ہے۔ مدعی میڈیا اداروں کے مطابق، اس نوعیت کے اقدامات سے عوامی سطح پر معلومات کی تقسیم میں جانبداری پیدا ہوتی ہے جو کہ جمہوری اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر ٹروتھ سوشل اور متعلقہ حکام کی طرف سے تاحال کوئی تفصیلی جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ ڈیجیٹل دور میں سیاسی شخصیات کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال اور کمرشلائزیشن کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر قائم کر سکتا ہے۔ عدالت اس کیس کی سماعت آنے والے ہفتوں میں کرے گی جہاں دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔