LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے ذریعے نازی دور کے لوٹے گئے فن پاروں کی تلاش

News Image
محققین نازی دور میں چوری ہونے والے لاکھوں فن پاروں اور ثقافتی ورثے کو تلاش کرنے کے لیے جدید مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ جدید نظام آرکائیوز کو تیزی سے اسکین کرکے غائب ہونے والے شاہکاروں کا سراغ لگانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک نازی دور تھا، جس میں انسانی جانوں کے زیاں کے ساتھ ساتھ پوری ثقافتوں اور ان کے تاریخی نقوش کو مٹانے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی۔ نازی حکومت نے دوسری جنگ عظیم اور اس سے پہلے کے دوران لاکھوں کی تعداد میں نایاب فن پارے اور ثقافتی ورثے کی چیزیں لوٹ لی تھیں۔ ان میں سے بہت سے نوادرات آج بھی غائب ہیں اور ان کے اصل مالکان یا ان کے وارث دنیا بھر میں اپنے اجداد کی میراث کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ان گمشدہ فن پاروں کو تلاش کرنے کا کام انتہائی صبر آزما اور مشکل رہا ہے کیونکہ اس کے لیے ہزاروں پرانے دستاویزات، رسیدوں اور تصاویر کی چھان بین کرنی پڑتی ہے۔ اب اس مشکل کام میں مدد کے لیے محققین نے مصنوعی ذہانت یعنی AI کا رخ کیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر ویژن کی مدد سے آرٹ ہسٹورینز اور ریسرچرز لاکھوں آرکائیول ریکارڈز کو انتہائی قلیل وقت میں اسکین کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ یہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز پرانے کیٹلاگ، ہینڈ رائٹنگ، اور فن پاروں کی مدہم تصاویر کو پڑھنے اور ان کا آپس میں موازنہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ ایسے تعلقات اور سراغ جو انسانی آنکھ سے اکثر اوجھل رہ جاتے ہیں، انہیں منٹوں میں تلاش کر لیتے ہیں اور محققین کی راہنمائی کرتے ہیں۔ اس تکنیک کے ذریعے نہ صرف غائب شدہ آرٹ کی ملکیت کے تنازعات کو حل کرنے میں مدد مل رہی ہے بلکہ نازیوں کی جانب سے پھیلائے گئے ثقافتی لوٹ مار کے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ سفر ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی امید افزا ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت اب اس بات کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں کہ کئی دہائیوں سے گمشدہ شاہکار اپنے اصل وارثوں یا متعلقہ عجائب گھروں تک واپس پہنچ سکیں گے۔