LIVE
Loading Breaking News...

امریکی چین پالیسی اور ترقی پسند ڈیموکریٹس کا کردار

News Image
امریکہ میں ہونے والے وسطی دور کے انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند امیدواروں کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بحث چھوٹی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سیاسی تبدیلی سے واشنگٹن کی بیجنگ کے حوالے سے روایتی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
امریکہ میں رواں سال ہونے والے وسطی دور کے انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند امیدواروں کی ایک کے بعد دوسری کامیابی نے سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ انالیلا مہیا سے لے کر عبدالسید اور پیگی فلینیگن تک، ملک بھر میں ترقی پسند رہنماؤں کی جیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب امریکی عوام اور پارٹی کے اندرونی حلقے ایک نئے سیاسی نظریے کی طرف گامزن ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ملکی سطح پر سماجی اور معاشی پالیسیوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی امور بالخصوص امریکہ اور چین کے تعلقات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روایتی طور پر واشنگٹن میں چین کے حوالے سے ہمیشہ ایک سخت گیر مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے، جس میں تجارتی پابندیوں اور تزویراتی مسابقت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ تاہم، ترقی پسند ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی آوازیں اس روایتی حکمت عملی کو چیلنج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ترقی پسند رہنما اکثر عسکری اخراجات میں کمی اور سفارتی مذاکرات پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کو بڑھانے کے بجائے موسمیاتی تبدیلی، عالمی صحت اور معاشی تعاون جیسے مشترکہ چیلنجز پر توجہ دی جانی چاہیے۔ دوسری طرف، ڈیموکریٹک پارٹی کے اعتدال پسند اور روایتی دھڑے چین کے معاملے پر کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کے خلاف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی عسکری اور اقتصادی برتری برقرار رکھنی ہوگی۔ اس کشمکش کی وجہ سے آنے والے وقت میں امریکی کانگریس کے اندر چین پالیسی پر شدید بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ اگر ترقی پسند اراکین قانون سازی کے عمل میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو واشنگٹن کی ایشیا پیسیفک حکمت عملی میں کچھ لچک دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سیاسی تبدیلی کے اثرات صرف دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے عالمی معیشت اور خطے کی سلامتی پر بھی براہ راست اثر پڑے گا۔ آنے والے انتخابات کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ آیا امریکہ کی چین پالیسی روایتی جارحانہ انداز پر قائم رہتی ہے یا پھر ترقی پسند نظریات کی روشنی میں اس میں کوئی نئی سمت اختیار کی جاتی ہے۔