Politics
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور سفارت کاری پر زور
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی امن کے استحکام کے لیے سفارت کاری اور بامقصد بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد ہی بہترین حل ہے۔
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے تمام فریقین کے مابین باضابطہ اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی رہنماؤں اور سفارت کاروں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین تعطل کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن بقائے باہم اور باہمی تعاون ہی خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ تعطل کے تناظر میں وزیر خارجہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان نے ہمیشہ سے خطے میں ثالثی اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ایرانی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کرنا ہی اس صورتحال کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ اس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی۔
اس کے علاوہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانیہ اور چین سمیت دیگر اہم ممالک کے سفارت کاروں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے پاک برطانیہ تعلقات میں آنے والے مثبت رجحان کو سراہا اور تجارت، معیشت اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
سفارتی حلقوں میں وزیر خارجہ کے ان دوروں اور بیانات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس فعال سفارت کاری کا مقصد خطے کو جنگ اور کشیدگی کے سائے سے دور رکھنا اور اقتصادی استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ حکومت پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔